سات سال پہلے ایک آیت، اور آج ایک سوال!
آج سے ٹھیک سات سال پہلے، جب میری زندگی میں ایک فکری اور روحانی تبدیلی آ رہی تھی، میں قرآن مجید کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھ رہا تھا۔ اسی دوران سورۃ النساء کی ایک آیت میرے سامنے آئی جس نے مجھے گہری سوچ میں ڈال دیا۔ میں نے اس آیت کو نشان زد کر لیا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ
“بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔”سورۃ النساء 4:48 ↗
اس وقت میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا تھا، جس پر میں وقتاً فوقتاً غور کرتا رہا۔ آج، ٹھیک سات سال بعد، وہی نشان زدہ آیت دوبارہ میرے سامنے آئی۔ لیکن آج سوال پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہے:
اگر شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس کا مقصد اسے اللہ کے سیدھے راستے سے ہٹانا ہے، تو کیا اس کے فریب کی خطرناک صورتوں میں سے ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان کسی غلط عقیدے یا عمل کو غلط سمجھنے کے بجائے نیکی، ہدایت اور قربِ الٰہی سمجھنے لگے؟
اور اگر معاملہ شرک تک پہنچ جائے، مگر انسان اسے نیکی ہی سمجھتا رہے، تو اسے توبہ کی ضرورت کیسے محسوس ہوگی؟
انسان کا دشمن کون؟
اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا
“بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔”سورۃ فاطر 35:6 ↗
آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کے حکم سے انکار کرتے ہوئے ابلیس نے تکبر کیا: “میں اس سے بہتر ہوں؛ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔” سورۃ الاعراف 7:12 ↗
اس کے بعد ابلیس نے مہلت مانگی، پھر بنی آدم کو گمراہ کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا:
“میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔ پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا۔”سورۃ الاعراف 7:16–17 ↗
یہاں ایک بات مجھے خاص طور پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ابلیس نے صرف کسی ایک گناہ یا برائی کی جگہ کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا: “تیرے سیدھے راستے پر۔”
اگر دشمن صراطِ مستقیم پر بھی گھات لگانے کا اعلان کررہا ہے، تو کیا مذہبی ہونا بذاتِ خود اس بات کی ضمانت ہے کہ انسان ہر فریب سے محفوظ ہوگیا؟
گمراہی ہمیشہ ایک ہی شکل میں نہیں آتی
انسان کو اللہ سے دور کرنے کے راستے مختلف ہوسکتے ہیں۔ خواہشات، فحاشی، ظلم، نشہ، تکبر، مال کی محبت، گناہ، بے حیائی، دین سے بے زاری اور اللہ کے بارے میں شکوک—یہ سب انسان کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔
“میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اور انہیں آرزوؤں میں مبتلا کروں گا۔”سورۃ النساء 4:119 ↗
لیکن ایک اور صورت زیادہ باریک ہوسکتی ہے۔ انسان دین سے دور نہ ہو۔ وہ مذہبی ہو۔ عبادت کرتا ہو۔ اللہ کا قرب چاہتا ہو۔ اپنے عمل کو نیکی سمجھتا ہو۔ لیکن اگر اسی مقام پر اس کی سمجھ میں کوئی بنیادی غلطی داخل ہوجائے تو؟
جب برا عمل اچھا دکھائی دینے لگے
اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا
“کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل خوش نما بنا دیا گیا، پھر وہ اسے اچھا سمجھنے لگا…”سورۃ فاطر 35:8 ↗
قرآن ایک اور مقام پر فرماتا ہے: “اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے۔” سورۃ الانعام 6:43 ↗
اور سورۃ الاعراف میں ایسے لوگوں کا ذکر آتا ہے: وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ — “اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔” سورۃ الاعراف 7:30 ↗
شرک کا معاملہ اتنا سنگین کیوں؟
اب ہم دوبارہ اس آیت کی طرف آتے ہیں جسے میں نے سات سال پہلے نشان زد کیا تھا: “بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔” سورۃ النساء 4:48 ↗
یہاں ایک وضاحت انتہائی ضروری ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص زندگی میں شرک سے سچی توبہ کرلے، اس کے لیے بھی مغفرت کا دروازہ بند ہے۔
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔”سورۃ الزمر 39:53 ↗
یعنی زندگی میں سچی توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ سورۃ النساء کی سخت وعید اس شخص کے بارے میں سمجھی جاتی ہے جو شرکِ اکبر سے توبہ کیے بغیر اسی حالت میں وفات پائے۔
اگر انسان کسی غلط عقیدے یا عمل کو نیکی، ہدایت اور قربِ الٰہی ہی سمجھ رہا ہو تو وہ اس سے توبہ کیوں کرے گا؟
کیا اچھی نیت کافی ہے؟
“ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔”سورۃ الزمر 39:3 ↗
یہاں ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: اللہ کے قرب کی خواہش اپنی جگہ، لیکن محض نیک نیت کسی عقیدے یا عبادت کو خودبخود درست نہیں بنادیتی۔
اسلامی عقیدے میں عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ شرک کو صرف پتھر کے بت کے سامنے جھکنے تک محدود سمجھنا بھی اس مسئلے کی مکمل تصویر نہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے عقائد اور عبادات کو اس معیار پر جانچے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دیا۔
کیا انسان خود کو نیک سمجھتے ہوئے بھی غلط ہوسکتا ہے؟
“وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئیں، جبکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔”سورۃ الکہف 18:104 ↗
اس آیت کا مخصوص سیاق ہے؛ اگلی آیت میں اللہ کی آیات اور اس سے ملاقات کے انکار کا ذکر آتا ہے۔ اس لیے اسے ہر اختلاف رکھنے والے مسلمان یا ہر اختلافی عمل پر براہِ راست منطبق کرنا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔
میرا خود کو درست سمجھنا، بذاتِ خود میرے درست ہونے کی دلیل نہیں۔
محبتِ رسول ﷺ، شفاعت اور توحید
رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور مسلمان آپ ﷺ کی شفاعت کے امیدوار ہیں۔ لیکن شفاعت بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار اور اجازت سے ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھنے کا ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو وہ میری امت کے اس شخص کو پہنچے گی:
مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا
“جو میری امت میں سے اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا۔”صحیح مسلم 199a · کتاب الایمان ↗
اس لیے محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی اپنی جگہ، لیکن نجات کے معاملے میں معیار وہی ہونا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر کیا ہے۔
آخر میں شیطان کیا کہے گا؟
“میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی، پس مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔”سورۃ ابراہیم 14:22 ↗
شیطان وسوسہ دے سکتا ہے، گمراہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے اور برائی کو خوش نما بنا سکتا ہے، لیکن آخرکار انسان اپنے انتخاب کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے اس تحقیق کا مقصد شیطان کی طاقت کا خوف پیدا کرنا نہیں؛ اس کا مقصد اپنے عقیدے، اپنے اعمال اور اپنے راستے کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔
یہ تحقیق دوسروں کے لیے نہیں—پہلے میرے لیے ہے
یہ تحریر کسی مسلک، جماعت، شخصیت یا روحانی سلسلے کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہم فوراً دوسروں کے عقائد کا محاسبہ شروع کردیں۔
اس تحقیق کا پہلا مخاطب میں خود ہوں۔
ہم میں سے ہر شخص نے بہت سے مذہبی تصورات اپنے خاندان، ماحول، اساتذہ اور معاشرے سے حاصل کیے ہیں۔ ممکن ہے ان میں بہت کچھ درست ہو۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ جسے ہم دین سمجھ رہے ہیں، اس کی اصل بنیاد کیا ہے؟
ممکن ہے غلطی کسی دوسرے کی نہیں، میری اپنی سمجھ میں ہو۔ اسی لیے یہ تحقیق کوئی تیار شدہ فیصلہ دینے کے بجائے ایک دعوت ہے: اپنے عقائد اور اعمال پر ایک مرتبہ دوبارہ تحقیق کیجیے۔
اگر ہماری بات درست ہے تو تحقیق اسے مزید مضبوط کردے گی۔ اور اگر کہیں ہماری سمجھ، روایت یا تصور میں غلطی ہے تو اسے جان لینا شکست نہیں—اصلاح کا موقع ہے۔
کہیں میں خود تو نہیں؟
سات سال پہلے میں نے قرآن کی ایک آیت نشان زد کی تھی۔ آج سات سال بعد وہی آیت میرے سامنے ایک بڑے سوال کے ساتھ کھڑی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ صراطِ مستقیم پر بیٹھنے کا اعلان کرتا ہے۔ قرآن یہ بھی دکھاتا ہے کہ برے اعمال انسان کو خوبصورت محسوس ہوسکتے ہیں، اور انسان کبھی خود کو ہدایت پر سمجھتے ہوئے بھی گمراہی میں ہوسکتا ہے۔
کہیں میں خود تو کسی ایسے فریب میں نہیں؟
اور شاید یہ سوال آپ بھی اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں: کیا یہ ممکن ہے کہ میں بھی کسی ایسی غلطی کو پہچان نہ پا رہا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں؟
نقطۂ ربط — تحقیقی طریقۂ کار
قرآن ← صحیح سنت ← سیاق و سباق ← معتبر علمی تشریح ← پھر نتیجہ
کسی ایک مفسر، عالم، مسلک یا علمی روایت کو تحقیق کا واحد معیار نہیں بنایا جائے گا۔ جہاں اہلِ علم کا معتبر اختلاف ہوگا، اسے دیانت داری سے دیکھا جائے گا۔ ہم کسی مسلک کو درست یا غلط ثابت کرنے کے لیے دلائل تلاش نہیں کریں گے؛ ہم دلائل کا مطالعہ کریں گے، پھر دیکھیں گے کہ وہ ہمیں کس نتیجے تک پہنچاتے ہیں۔
جسے ہم ہدایت سمجھ رہے ہیں، کیا وہ واقعی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی ہدایت ہے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے، شرک کی ہر صورت سے محفوظ رہنے، اور اپنی اصلاح و توبہ سے کبھی غافل نہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بنیادی حوالہ جات
- القرآن: النساء ↗ 4:48، 4:119
- القرآن: الاعراف ↗ 7:12، 7:16–17، 7:30
- القرآن: الانعام ↗ 6:43
- القرآن: ابراہیم ↗ 14:22
- القرآن: الکہف ↗ 18:104–105
- القرآن: فاطر ↗ 35:6، 35:8
- القرآن: الزمر ↗ 39:3، 39:53
- صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 199a — حدیثِ شفاعت ↗
